چیزوزن کریگا یا اس سے تول کر باٹ بنائے گا(1)یا اپنی دوکان کو سجائے گا تو عاریت ہے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۹: پہننے کے کپڑے قرض مانگے یہ عرفاًعاریت ہے پیوند مانگا کہ کرتے میں لگائے گا یا اینٹ یاکڑی (3) مکان میں لگانے کے لیے عاریت مانگی اور ان سب میں یہ کہہ دیا ہے کہ واپس دیدوں گا توعاریت ہے اور یہ نہیں کہا ہے تو قرض ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کسی سے ایک پیا لہ سالن مانگا یہ قرض ہے اور اگر دونوں میں انبساط وبے تکلفی ہو تو اباحت ہے۔ گولی، چھرے عاریت لیے یہ قرض ہے اور اگر نشانہ پر مارنے کے لیے یعنی چاندماری کے لیے گولی لی ہے تو عاریت ہے کیونکہ اُسے واپس دے سکتا ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: عاریت دینے والا جب چاہے اپنی چیز واپس لے سکتا ہے جب یہ واپس مانگے گا عاریت باطل ہوجائے گیعاریت کی ایک مدت مقرر کردی تھی مثلاً ایک ماہ کے لیے یہ چیز دی اور مالک نے مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ کرلیا عاریت باطل ہوگئی اگرچہ مالک کو ایساکرنا مکروہ وممنوع ہے کہ وعدہ خلافی ہے مگر واپس لینے میں اگر مستعیر کا ظاہر نقصان ہو توچیزاُس کے قبضہ سے نہیں نکال سکتا بلکہ چیز اُس مدت تک مستعیر کے پاس بطورِ اجارہ رہے گی مالک کو اُجرت مثل ملے گی مثلاً ایک شخص کی لونڈی کو بچہ کے دودھ پلانے کے لیے عاریت پر لیا اور اندرونِ مدتِ رضاعت(6) مالک لونڈی کو مانگتا ہے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہیں لیتا جب تک مدت پوری نہ ہو لونڈی نہیں لے سکتا ہاں اس زمانہ کی واجبی اُجرت(7)وصول کرسکتا ہے کیوں کہ عاریت باطل ہوگئی۔ جہاد کے لیے گھوڑا عاریت لیا تھا اور چار ماہ اس کی مدت تھی دو مہینے کے بعد مالک اپنے گھوڑے کوواپس لینا چاہتا ہے اگر اسلامی علاقہ میں ہے مالک کو واپس دے دیاجائے گا اور اگر بلادِشرک میں مطالبہ کرتا ہے ایسی جگہ کہ نہ وہاں کرایہ پر گھوڑا مل سکتا ہے نہ خریدسکتا ہے تو مستعیر واپس دینے سے انکار کرسکتا ہے اور ایسی جگہ تک آنے کا کرایہ دے گا