مسئلہ ۱: دایہ یعنی دودھ پلانے والی کواُجرت پر رکھنا جائز ہے اور اس کے لیے وقت مقرر کرنا بھی ضروری ہوگا یعنی اتنے دنو ں کے لیے یہ اجارہ ہے اور دایہ سے کھانے کپڑے پر اجارہ کیا جاسکتا ہے یعنی اُس سے کہا کہ کھانا کپڑا لیا کر اور بچہ کو دودھ پلااور اس صورت میں متوسط درجہ کا کھانا دینا ہوگا اور کپڑے کی مقدار وجنس وصفت بیان کرنی ہوگی اور اُس کی مدت بھی بیان کرنی ہوگی کہ کب دیا جائے گا اس صورت میں اگرچہ جہالت ہے (1)مگریہ جہالت باعثِ نزاع (2) نہیں ہے کیونکہ بچہ پر شفقت والدین کو مجبور کرتی ہے کہ دایہ کے کھانے کپڑے میں کمی نہ کی جائے۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: کسی جانور کو دودھ پینے کے لیے اُجرت پرلیا یہ ناجائز ہے۔ یوہیں درخت کوپھل کھانے کے لیے اُجرت پرلیا یہ بھی ناجائز ہے اس صورت میں جتنا دودھ دوہا ہے یاجتنے پھل کھائے ہیں اُن کی قیمت دینی ہوگی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر دایہ سے یہ شرط طے پاگئی ہے کہ بچہ کے والدین کے گھرمیں وہ دودھ پلائے تو یہیں اُس کوپلانا ہوگا اپنے گھر نہیں لے جاسکتی مگر جبکہ کوئی عذر ہو مثلاًوہ بیمار ہوگئی کہ یہاں نہیں آسکتی اور اگر یہاں پلانے کی شر ط نہیں ہے تو وہ بچہ کواپنے گھر لے جاسکتی ہے ان کویہ حق نہیں کہ یہاں رہنے پر اُسے مجبور کریں ہاں اگر وہاں کایہی عرف(5) ہے کہ دایہ بچہ کے باپ کے گھر آکر دودھ پلاتی ہے یا یہیں رہتی ہے تو بغیر شرط بھی دایہ کواس رواج کی پابندی کرنی ہوگی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: دایہ کاکھانا بچہ کے باپ کے ذمہ نہیں ہے جبکہ اجارہ میں مشروط نہ ہواور مشروط ہو تو دینا ہوگا کپڑے کابھی یہی حکم ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: دایہ کا شوہر اُس سے وطی (8)کرسکتا ہے مستاجر (9)اُسے اِس اندیشہ سے منع نہیں کرسکتا کہ وطی سے حمل رہ