(المعجم الکبير للطبراني، الحدیث:۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)
(۱)بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔ (۲)جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔
1 اِخلاص کے ساتھ مسائل سیکھ کر رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا حقدار بنوں گا۔
2 حتَّی الوَسْع اِس کا با وُضُو اور 3 قبلہ رُو مطالَعہ کروں گا۔
4 اِس کے مطالعے کے ذریعے فرض علوم سیکھوں گا ۔
5 عمل کی نیّت سیشرعی مسائل سیکھوں گا۔
6 جو مسئلہ سمجھ میں نہیں آئے گا اس کے لیے آیتِ کریمہ
(فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾)
ترجمہ کنزالایمان:''تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں''پر عمل کرتے ہوئے علماء سے رجوع کروں گا۔
7 (اپنے ذاتی نسخے پر)عند الضرورت خاص خاص مقامات پر انڈر لائن کروں گا۔
8 (ذاتی نسخے کے)یاد داشت والے صفحہ پر ضروری نکات لکھوں گا۔
9 جس مسئلے میں دشواری ہو گی اُس کو بار بار پڑھوں گا۔
10 زندگی بھر عمل کرتا رہوں گا۔
11 جو نہیں جانتے انھیں سکھاؤں گا ۔
12 جو علم میں برابر ہو گا اس سے مسائل میں تکرار کروں گا۔
13 یہ پڑھ کر عُلمائے حقّہ سے نہیں اُلجھوں گا۔
14 دوسروں کو یہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا۔
15 (کم از کم ۱۲ عدد یا حسبِ توفیق)یہ کتاب خرید کر دوسروں کو تحفۃً دوں گا۔
16 اس کتاب کے مُطالَعہ کا ثواب ساری امّت کو اِیصال کروں گا۔
17 کتابت وغیرہ میں شرعی غلطی ملی تو ناشِرین کو مطلع کروں گا۔
طالبِ غمِ مدینہ
بقیع و مغفرت و
بے حساب
جنّت الفردوس
میں آقا كا پڑوس
6 ربیع الغوث 1427 ھ