مسلمانو! ایمان سے دیکھنا کہ اس شرک فروش کا شرک کہاں تک پہنچتا ہے! تم نے دیکھا اِس گستاخ نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم پر کیا حکم جَڑا...؟!
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۸:
''پیغمبرِ خدا کے وقت میں کافر بھی اپنے بتوں کو اﷲ کے برابر نہیں جانتے تھے، بلکہ اُسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور اُن کو اُس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے، مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر و نیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل و سفارشی سمجھنا، یہی اُن کا کفر و شرک تھا، سو جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے، گو کہ اُس کو اﷲ کا بندہ ومخلوق ہی سمجھے، سو ابوجھل اور وہ شرک میں برابر ہے۔'' (1)
یعنی جو نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم کی شفاعت مانے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم) اﷲ عزوجل کے دربار میں ھماری سفارش فرمائیں گے تو معاذ اﷲ اس کے نزدیک وہ ابو جھل کے برابر مشرک ہے، مسئلہ شفاعت کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ اس کو شرک ثابت کیا اور تمام مسلمانوں صحابہ و تابعین و ائمہ دین و اولیا و صالحین سب کو مشرک و ابو جھل بنا دیا۔
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۵۸:
''کوئی شخص کہے: فُلانے درخت میں کتنے پتے ہیں؟ یا آسمان میں کتنے تارے ہیں؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے، کہ