Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
2 - 278
عقا ئد متعلقہ ذات و صفاتِ الٰہی جَلّ جلا لہ،
    عقیدہ (۱): اﷲ (عزوجل) ایک ہے (1)، کوئی اس کا شریک نہیں(2)، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں(3) نہ احکام میں(4)، نہ اسماء میں (5)، واجب الوجود ہے(6)، یعنی اس کا وجود ضروری ہے اور عَدَم مُحَال(7)، قدیم ہے (8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ) پ۳۰، الإخلاص: ۱.

    (وَإِلٰہُکُمْ إِلٰـہٌ وَاحِدٌ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ہُوَ) پ۲، البقرۃ: ۱۶۳.    

2۔۔۔۔۔۔ (لاَ شَرِیْکَ لَہٗ) پ۸، الأنعام: ۱۶۳.

3۔۔۔۔۔۔ في''منح الروض الأزہر'' في ''شرح الفقہ الأکبر'' للقاریئ، ص۱۴: (واللہ تعالی واحد) أي: في ذاتہ (لا من طریق العدد) أي: حتی لا یتوہم أن یکون بعدہ أحد (ولکن من طریق أنّہ لا شریک لہ) أي: في نعتہ السرمديّ لا في ذاتہ ولا في صفاتہ).

    وفي ''حاشیۃ الصاوي''، پ۳۰، الإخلاص، تحت الآیۃ ۱: (والتنزہ عن الشبیہ والنظیر والمثیل في الذات والصفات والأفعال)، ج۶، ص۲۴۵۱. وانظر للتفصیل رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن: ''اعتقاد الأحباب في الجمیل والمصطفی والآل والأصحاب'' المعروف بہ ''دس عقیدے''، ج۲۹، ص۳۳۹۔

4۔۔۔۔۔۔ (وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا) پ۱۵، الکہف: ۲۶. 

    في ''تفسیر الطبري''، ج۸، ص۲۱۲، تحت الآیۃ: (یقول: ولا یجعل اللہ في قضائہ، وحکمہ في خلقہ أحداً سواہ شریکاً، بل ہو المنفرد بالحکم والقضاء فیہم، وتدبیرہم وتصریفہم فیما شاء وأحبّ)۔

5۔۔۔۔۔۔ (ہَلْ تَعْلَمُ لَـہ، سَمِیًّا) پ۱۶، مریم: ۶۵، في ''التفسیر الکبیر'' تحت الآیۃ: (المراد أنّہ سبحانہ لیس لہ شریک في اسمہ).

6۔۔۔۔۔۔ في''منح الروض الأزہر'' في ''شرح الفقہ الأکبر'' للقاریئ، ص۱۵: (لایشبہ شیأاً من الأشیاء من خلقہ) أي: مخلوقاتہ، وھذا لأنّہ تعالی واجب الوجود لذاتہ وماسواہ ممکن الوجود في حد ذاتہ، فواجب الوجود ہوالصمد الغنيّ الذي لایفتقر إلی شيئ، ویحتاج کل ممکن إلیہ في إیجادہ وإمدادہ، قال اللہ تعالی: (وَاللہُ الْغَنِیُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاء ُ).

7۔۔۔۔۔۔ یعنی اُس کا موجودنہ ہونا، نا ممکن ہے۔ 

8۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۸: (ومنہ أنّہ قدیم، لا أوّل لہ۔أي: لم یسبق وجودہ عدم۔ ولیس تحت لفظ القدیم معنی في حقّ اللہ تعالی سوی إثبات وجود، ونفي عدم سابق۔ فلا تظنن أنّ القدم معنی زائد علی الذات القدیمۃ، فیلزمک أن تقول إنّ ذلک المعنی أیضاً قدیم بقدم زائد علیہ ویتسلسل إلی غیر نہایۃ۔ ومعنی القدم في حقہ تعالی۔ أي: امتناع سبق العدم علیہ۔ ہو معنی کونہ أزلیا، ولیس بمعنی تطاول الزمان، فإنّ ذلک وصف للمحدثات کما في قولہ تعالی: (کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ).
Flag Counter