| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جس میں روشنی کا نام نہیں۔ (1)جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے قسم کھا کر عرض کی: کہ اگر جہنم سے سوئی کے ناکے کی برابر کھول دیا جائے تو تمام زمین والے سب کے سب اس کی گرمی سے مر جائیں اور قسم کھا کر کہا : کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ (2) اھلِ دنیا پر ظاہر ہو تو زمین کے رہنے والے کُل کے کُل اس کی ہَیبت سے مر جائیں اور بقسم بیان کیا: کہ اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پررکھ دی جائے تو کانپنے لگیں اور انہیں قرار نہ ہو، یہاں تک کہ نیچے کی زمین تک دھنس جائیں۔ (3) یہ دنیا کی آگ (جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں کہ بعض موسم میں تو اس کے قریب جانا شاق ہوتا ہے، پھر بھی یہ آگ) خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جائے (4)، مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اُس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی اور پناہ مانگتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن أنس رضي اللہ عنہ قال: تلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہذہ الآیۃ: (وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ)، فقال: ((أوقد علیہا ألف عام حتی احمرت، وألف عام حتی ابیضت، وألف عام حتی اسودت، فہي سوداء مظلمۃ لا یضيء لہبہا)).
وفي روایۃ: ((لا یطفأ لہبہا)). ''الترغیب والترہیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في ظلمتہا وسوادہا وشررہا، الحدیث:۳۰، ص۲۵۱۔۲۵۲.
2۔۔۔۔۔۔ یعنی محافظ و نگران۔
3۔۔۔۔۔۔ عن عمر بن الخطاب قال: جاء جبریل إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حین غیر حینہ الذي کان یأتیہ فیہ، فقام إلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((یا جبریل ما لي أراک متغیر اللون؟ فقال:......والذي بعثک بالحق لو أنّ قدر ثقب إبرۃ فتح من جھنم لمات من في الأرض کلھم جمیعاً من حرّہ...... والذي بعثک بالحق لو أنّ خازناً من خزنۃ جھنم برز إلی أھل الدنیا فنظروا إلیہ لمات من في الأرض کلّھم من قبح وجھہ، ومن نتن ریحہ. والذي بعثک بالحق لو أنّ حلقۃ من حلقۃ سلسلۃ أھل النار التي نعت اللہ في کتابہ وضعت علی جبال الدنیا لارفضّت وما تقارّت حتی تنتھي إلی الأرض السفلی))، ملتقطاً.
''مجمع الزوائد''، کتاب صفۃ النار، الحدیث: ۱۸۵۷۳، ج۱۰، ص۷۰۶۔۷۰۷.
''المعجم الأوسط'' للطبراني، ج۲، ص۷۸، الحدیث:۲۵۸۳.
4 ۔۔۔۔۔۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ نارکم ھذہ جزء من سبعین جزء اً من نارجھنم، ولولا أنّھا أطفئت بالماء مرتین ما انتفعتم بھا، وإنّھا لتدعو اللہ عزوجل أن لا یعیدھا فیھا)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث:۴۳۱۸، ج۴، ص۵۲۸.