Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
127 - 278
    (۲۸) وفاتِ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامِ قیامت (1) کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے(2)، ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی، جو لوگوں کی بغلو ں کے نیچے سے گزرے گی، جس کا اثر یہ ہو گا کہ مسلمان کی روح قبض ہو جائے گی اور کافر ہی کافر رہ جائیں گے اور اُنھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (3) 

    یہ چند نشانیاں بیان کی گئیں، اِن میں بعض واقع ہوچکیں اور کچھ باقی ہیں، جب نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے(4)، اﷲ کہنے والا کوئی نہ ہوگا (5)، کوئی اپنی دیوار لیستا (6) ہوگا، کوئی کھانا کھاتا ہوگا، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے(7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ قیامت کے قائم ہونے۔ 

2۔۔۔۔۔۔ لم نعثر علیہ۔

3۔۔۔۔۔۔ ((فبینما ھم کذلک إذ بعث اللہ ریحاً طیبۃ، فتأخذھم تحت آباطھم، فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ، ویبقی شرار الناس، یتھارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۷۳۷۳، ص۱۵۷۰.

4۔۔۔۔۔۔ لم نعثر علیہ۔

5۔۔۔۔۔۔ عن أنس أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی لا یقال في الأرض: اللہ اللہ)).

''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب ذھاب الإیمان آخر الزمان، الحدیث: ۲۳۴، ص۸۸.

    في ''المرقاۃ''، ج۹، ص ۴۵۰، تحت الحدیث: (معناہ: لا تقوم الساعۃ حتی لا یبقی في الأرض مسلم یحذر الناس من اللہ، وقیل: أي: لا یذکر اللہ فلا یبقی حکمۃ في بقاء الناس).

6۔۔۔۔۔۔ پلستر کرتا۔

7۔۔۔۔۔۔ عن أبيہریرۃ رضي اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:((لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا، فإذا طلعت فرآہا الناس آمنوا أجمعون فذلک حین(لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا)الآیۃ، ولتقومن الساعۃ وقد نشر الرجلان ثوبھما بینھما فلا یتبایعانہ ولا یطویانہ، ولتقومن الساعۃ وقد انصرف الرجل بلبن لقحتہ فلا یطعمہ، ولتقومنّ الساعۃ وہو یلیط حوضہ فلا یسقي فیہ، ولتقومن الساعۃ وقد رفع أحدکم أکلتہ إلی فیہ فلا یطعمہا)). 

(''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، الحدیث:۶۵۰۶، ج۴، ص۲۴۹).
Flag Counter