Brailvi Books

بدنصیب دُولھا
26 - 29
ا یمان کی حفاظت
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُﷲِ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان ہیں اور ایک مسلمان کے لئے اس کی سب سے قیمتی متاع اس کا ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کی فکر ہمیں دنیاوی اشیاء سے کہیں زیادہ ہونی چا ہیے ۔ امامِ اہلسنّت،عظیم البرکت،مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کا ارشاد ہے:عُلَمائے کرام فرماتے ہیں جس کو (زندگی میں )سلْب ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ۔(الملفوظ حصہ ۴ ص۳۹۰ حامد اینڈ کمپنی مرکز الاولیاء لاہور)

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک اعمال پر استقامت کے علاوہ ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہکسی ''مرشدِکامل '' سے بیعت ہوجانا بھی ہے ۔

بَیْعَت کا ثُبوت : اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔
یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمْ ۚ
ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔(بنی اسرائیل :۷۱)

    تفسیرنورُ العِرفان میں حکیم الامت مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں'' اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شریعت میں ''تقلید'' کرکے ، اور طریقت میں ''بَیْعَت''کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطان ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔''

    پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ کسی کو اپنا پیر بنانے کے لئے چار شرائط کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔چنانچہ امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد21صفحہ 603پر پیر کی شرائط کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں:

    (۱)صحیح العقیدہ سنّی ہو۔(۲)اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے ۔(۳)فاسقِ معلن نہ ہو(ایک بار گناہِ کبیرہ کرنے والا یا گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے والا یعنی تین یا اس سے زیادہ بار کرنے والا یا صغیرہ کو صغیرہ سمجھ کر ایک بار کرنے والا فاسق ہوتا ہے اور اگر علی الاعلان کرے تو فاسق ِ معلن ہے ۔)(۴)اس کا سلسلہ بیعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک متّصل (یعنی ملاہوا) ہو ۔
Flag Counter