(طاقت) نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا ،ان سب صورَتوں میں وہ ماں باپ کی شَفاعت کرے گا جبکہ یہ (یعنی ماں باپ)دنیا سے با ایمان گئے ہوں ۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص ۵۹۶۔۵۹۷)
سُوال8:اگر کسی نے ساتویں دن سے قَبل ہی بچّے کا عقیقہ کر دیا تو؟
جواب: اگر چِہ عقیقے کا وَقت ساتویں روز سے شروع ہوتا ہے اور سنّت وافضل یہی ہے تاہم اِس سے قبل حتّٰی کہ ایک دن کے بچّے کا بھی عقیقہ کر دیا تو ہو گیا۔
بچّہ کے کان میں کتنی بار اَذان دیں ؟
سُوال9:برائے کرم !یہ بھی بتادیجئے کہ بچّہ یا بچّی پیدا ہو تواُس کے کان میں اَذان کب اور کتنی بار دیں ؟بچّے کانام کون سے دن رکھیں اور سر کے بال کس دن صاف کروائیں ؟
جواب:جب بچّہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اَذان واِقامت کہی جائے اَذان کہنے سے اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی بلائیں دُور ہوجائیں گی۔امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حُسین ابنِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :جس شخص کے ہاں بچّہ پید ا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے تو بچّہ اُمُّ الصِّبْیان سے محفوظ رہے گا ۔(مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۶ ص۳۲ حدیث۶۷۴۷)اُمُّ الصِّبْیان کیمُتَعلِّق عاشِقوں