Brailvi Books

عقیقے کے بارے میں سوال جواب
21 - 22
 گوشت میں آدھا کلو چُقَندر ڈال کر حسبِ معمول پکا لیجئے۔
سُوال32: عقیقے کے موقع پر جو تحائف دیئے جاتے ہیں یہ کیسا ہے؟
جواب:آج کل عُمُوماً عقیقے کے لیے طعام(یعنی کھانے) کا اِہتِما م کر کے عزیز واَقارِب دعوت دی جاتی ہے جو کہ اچّھا کام ہے اوردعوت پر آنے والے مہمان، بچّے کے لیے تحفے لاتے ہیں یہ بھی خوب ہے ۔ البتّہ یہاں کچھ تفصیل ہے: اگر مِہمان کچھ تحفہ نہ لائے تو بعض اوقات میزبان یا اُس کے گھر والے مِہمان کی بُرائی کرنے کے گناہوں میں پڑتے ہیں ، تو جہاں یقینی طور پر یا ظنِّ غالِب سے ایسی صورتِ حال ہو وہاں مہمان کو چاہئے کہ بِغیر مجبوری کے نہ جائے، ضَرورتاً جائے اور تحفہ لے جائے تو حَرَج نہیں ، البتّہ میزبان نے اِس نیّت سے لیا کہ اگر مہمان تحفہ نہ لاتا تو یہ یعنی میزبان اِس (مہمان) کی بُرائیاں کرتا ،یابطورِ خاص نیّت تو نہیں مگر اِس(میزبان) کا ایسا بُرامعمول ہے تو جہاں اِسے(یعنی میزبان کو) غالِب گمان ہو کہ لانے والا اِسی طور پر یعنی(میزبان کے) شَرسے بچنے کیلئے لایا ہے تو اب لینے والا میزبان گنہگار اور عذابِ نارکا حقدار ہے اور یہ تحفہ اِ س کے حق میں رشوت ہے۔ ہاں اگر بُرائی بیان کرنے کی نیّت نہ ہواور نہ اِس کا ایسا بُرا معمول ہو تو تحفہ قَبول کرنے میں حَرَج نہیں ۔
نوٹ:یہ رسالہ پہلی بارماہ شیخ عبدالقادر ۷ ربیع الآخِر ۱۴۲۸ھبمطابق2007-4-25 کو ترتیب پایا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر۵ذُوالقعدۃِ الحرام  ۱۴۳۳ھ؁ بمطابق2012-9-23 میں اِس