کیا بھنگن کو ران، غنی نائی کو چاندی دی تو بُرا کیا مگر عقیقہ ہو گیا۔ سِری کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں جسے چاہے دے، جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی، بڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کر سکتا ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم ۔
عقیقے کی کھال کا استِعمال
سُوال25:عقیقے کے جانور کی کھال کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کے گوشت اور کھال کا بھی وُہی حکم ہے جو قربانی کے جانور کے گوشت پَوست( کھال) کاکہ کھا ل کو باقی رکھتے ہوئے یا ایسی چیز سے بدل کر جسے باقی رکھ کر نفع اُٹھایا جا سکتا ہو اپنے صَرْف میں لائے یا مسکین کو دے یا کسی اور نیک کام مَثَلاً مسجِد یا مدرَسے میں صَرْف کرے۔ (بہارِشریعت ج۳ص۳۵۷)
کھال اُجرت میں دینا کیسا؟
سُوال26: کیا قصّاب کو عقیقے کے جانور کی کھال بطورِ اُجرت دے سکتے ہیں ؟
جواب: نہیں دے سکتے۔ (ایضاًص۳۴۶)اِسی طرح نائی کوسَر یا جَنائی (Midwife) کو ران بطورِ اُجرت دینے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔
کون ذَبح کرے؟
سُوال27: عقیقے کا جانور کون ذبح کرے؟
جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :باپ اگر حاضِر ہو اور ذَبْح پر قادِر ہو تو اسی کا ذَبْح کرنا بہتر ہے کہ یہ