Brailvi Books

عقیقے کے بارے میں سوال جواب
17 - 22
جواب: میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فتاویٰ رضو یہ جلد 20صَفْحَہ588پرفرماتے ہیں :سَر نائی کو دینے کا نہ کہیں حکم نہ مُمانَعَت، ایک رَواجی(یعنی رسم ورواج کی)بات ہے، (دینے میں حَرَج نہیں ) جَنائی (Midwife)کو ران دینے کا حکم البتّہ حدیث سے(ثابت) ہے،مگر  کافِرہ سے یہ(یعنی زَچگی کا) کام لینا حرام ۔ کافِرہ سے مسلمان عورَت کو ایسے ہی پردے کا حکم ہے جیسے مرد سے کہ سِوا منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور تلووں کے کچھ نہ دِکھائے ، نہ کہ خاص جَنائی(یعنی زَچگی) کا کام۔  ’’ رَدُّالْمُحتار‘‘ میں ہے : ’’مسلمان عورت کو یہودی یا نَصرانی یا مُشرِک عورت کے سامنے ننگا ہونا حلال نہیں سِوائے اس کے کہ وہ اس کی لَونڈی ہو۔‘‘ (رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۶۱۳) اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  مزید فرماتے ہیں :پھر اگر کسی نے اپنی حماقت سے اِس (یعنی کافِرہ سے ڈلیوری کروانے کے) گُناہ کا اِرتکاب کیا ، اَوْکَانَ صَحِیْحُ الْاِضْطِرَارِ اِلَیْہِ(یعنی یا اس کی صحیح شدید مجبوری ہو ) تو اس (کافِرہ)کو ران وغیرہ کچھ نہ دیں کہ کافِروں کا صَدَقات وغیرہ میں کچھ حق نہیں نہ اس کو دینے کی(شرعاً) اجازت۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص۵۸۸،۵۸۹)صَفْحَہ588 پر اِس سے پچھلے فتوے میں ارشاد فرماتے ہیں : بھنگن یا کسی کافِرہ کو جَنائی(Midwife) بنانا سخت  حرام ہے۔نہ کافِرہ کو ران دی جائے اور بالوں کی چاندی مسکین کا حق ہے، نائی مسکین ہو تو دینے میں مضایَقہ نہیں ، اَصْل حکم یہ ہے پھر جس نے اس کے خلاف