عقیقے کے گوشْتْ کی تقسیم کا مسئلہ
سُوال21: عقیقے کے گوشت کی تقسیم کس طرح کریں ؟
جواب: میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:(عقیقے کا)گوشْتْ بھی مِثْلِ قربانی تین حصّے کرنا مُستَحب ہے، ایک اپنا، ایک اَقارِب،ایک مساکین کااور چاہے تو سب کھالے خواہ سب بانٹ دے، جیسے قربانی۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص۵۸۴)
پکا کر کھلائیں یا کچّا بانٹیں ؟
سُوال22: عقیقے کا گوشْتْ پکا کر کِھلانا افضل ہے یا کچّاگوشت تقسیم کردیں ۔
جواب: پکا کر کِھلانا کچّا تقسیم کرنے سے افضل ہے ۔ (اَیْضاً)
عقیقے کا گوشْتْ ماں باپ کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟
سُوال23:کیا عقیقہ کے گوشت میں والِدَین کا بھی حصّہ ہے؟
جواب: یو ں تو کسی کا بھی حصّہ ضَروری نہیں ، البتّہ مُستَحب تقسیم کا بیان ہوچکا۔ یہ جو مشہور ہے کہ والِدَین نہیں کھاسکتے یہ غَلَط بات ہے۔ماں باپ ،دادا دادی، نانا نانی وغیرہ سبھی مسلمان کھا سکتے ہیں ۔
کافِرہ دائی سے زَچگی کروانا حرام ہے
سُوال24: کہتے ہیں کہ عقیقے کے گوشت میں سے نائی کو سَر اور دائی (Midwife) کو ران دینا چاہئے اور اگر دائی کافِرہ ہو تو کیا کرے؟