آئے ) (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص۵۸۴) عقیقے کے جانور کے مُتعلِّق حضرتِ علّامہ شامیقُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں ، ’’بدائِع‘‘ میں ہے:افضل قربانی یہ ہے کہ مَینڈھا، چِتْکُبرا، سینگوں والااور خَصّی ہو۔(رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۵۴۹ )
جانور کی عُمر میں شک ہو تو؟
سُوال20: عقیقہ یا قربانی کے جانور کی عمر میں شک ہو تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:عمر کم ہونے کا شُبہ ہو تواُس جانور کی قُربانی یا عقیقہ نہ کرے۔اِس ضِمْن میں فتاویٰ رضویہ جلد 20صَفْحَہ583اور584سے دو جُزْئِیّات مُلاحَظہ ہوں : {۱} سال بھر سے کم کی بکری عقیقے یا قربانی میں نہیں ہو سکتی ، اگر مَشکوک حالت ہے تو وُہ بھی ایسی ہی ہے کہ سال بھر کی نہ ہونا معلوم ہو،لِاَنَّ عَدَمَ الْعِلْمِ بِتَحَقُّقِ الشَّرْطِ کَعِلْمِ الْعَدَمِ‘‘(شرط کے پائے جانے کا علم نہ ہونا ایسے ہی ہے جیسے اس چیز کے نہ ہونے کا علم ہو) {۲}جبکہ سال بھر کامل ہونے میں شک ہے تو اس کا عقیقہ نہ کریں اور (جانوربیچنے والے)قَصّاب کا قول یہاں کافی نہیں کہ (جانور) بِکنے میں اِس (یعنی بیچنے والے)کا نَفْع ہے اور (سال بھر کا بچّہ جودانت توڑتا ہے وہ اس نے ابھی نہ توڑے یہ) حالتِ ظاہِرہ اِس (بیچنے والے ) کی بات(یعنی جانور کامل ہونے کے دعوے) کو دَفْع کررہی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم (خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر جانور کی عمر پر یہ شک ہو کہ یہ بکرا سال بھر کا نہیں معلوم ہوتا یا گائے شاید دو سال سے کم عمر کی ہے تو ایسی مشکوک حالت میں اُس جانور کی قربانی یاعقیقہ نہیں ہو سکتا)