Brailvi Books

عقیقے کے بارے میں سوال جواب
14 - 22
 بَہُت ہی سخْت تکلیف دِہ ہے۔لہٰذا عقیقہ  میں نام محمد یا احمد رکھ لیجئے اور پکارنے کیلئے مَثَلاً بِلال رضا ، ہِلال رضا، جمال رضا، کمال رضا،  اور زید رضا وغیرہ رکھ لیا جائے۔ اسی طرح بچیوں کے نام بھی صحابِیات و وَلِیّات کے ناموں پر رکھنا مناسِب ہے جیسا کہ سکینہ ،زَرِینہ، جمیلہ، فاطِمہ، زینب ،مَیمونہ ، مریم وغیرہ ۔
عقیقے میں کتنے جانور ہونے چاہئیں ؟
سُوال18: بچّہ یا بچّی کے عقیقے میں جانوروں کی تعداد کے بارے میں بھی ارشادفرمادیجئے۔
جواب:لڑکے کیلئے دو اور لڑکی کیلئے ایک ہو۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خا ن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : (دونوں کیلئے )کم سے کم ایک (ایک جانور) تو ہے ہی اور پِسَر(یعنی بیٹے ) کیلئے دو (جانور) افضل ہیں (بیٹے کیلئے دو کی) اِستِطاعت (یعنی طاقت) نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص ۵۸۶ )
عقیقے کا جانور کیسا ہو؟
سُوال19:عقیقے کا جانور کیسا ہونا چاہئے؟
جواب:ایک قَصّاب سے عقیقے کے لیے جانور خریدنے کے مُتعلِّق کئے گئے ایک سُوال کے جواب میں میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ان اُمور میں اَحکامِ عقیقہ مِثْلِ قربانی ہیں ،اَعْضا سلامت ہوں ،بکرا بکری ایک سال سے کم کی جائز نہیں ،بَھیڑ،مَینڈھا چھ مہینہ کا بھی ہوسکتا ہے جبکہ اتنا تازہ و فَربہ ہوکہ سال بھر والوں میں مِلادیں تو دُور سے مُتَمَیَّزنہ ہو(یعنی دیکھنے میں سال بھر کا نظر