Brailvi Books

عقیقے کے بارے میں سوال جواب
13 - 22
 میں نے حَلف کیا (یعنی قسم فرمائی)ہے کہ جس کا نام احمد یا  محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۵ص۴۸۵ حدیث  ۸۸۳۷،فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۸۷) {۳}تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایک محمد یا دو  محمد یا تین محمد ہوں ۔ (اَلطَّبَقاتُ الْکُبریٰ لابن سعد ج۵ ص ۴۰ ) {۴} جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اُس کی عزّت کرو اور مجلِس میں اُس کیلئے جگہ کُشادہ کرو اور اُسے بُرائی کی طرف نسبت نہ کرو۔(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۴۹ حدیث  ۷۰۶)
 محمَّد نام رکھنے کی دو نِیَّتیں 
 	 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر بِغیر اچّھی نیّت کے فَقَط یوں ہی محمد نام رکھ لیا تو ثواب نہیں ملے گاکیونکہ ثواب کمانے کیلئے ’’اچّھی نیّت‘‘ ہوناشَرْط ہے اور حدیثِ پاک نمبر 1  میں دو اچّھی نیّتوں کی صَراحَت(یعنی وضاحت )بھی ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامِ نامی اسمِ گرامی سے بَرَکت حاصِل کرنے کی نیّت سے محمد نام رکھنے والے خوش قسمت باپ اور محمد نامی بیٹے کیلئے جنّت کی بِشارت ہے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ جلد 24صَفْحَہ691 پر فرماتے ہیں :’’ بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے ان کے ساتھ ’’ جان ‘‘ وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارَکہ کے وارِد ہوئے ہیں ۔‘‘ آج کل مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نام بگاڑنے کی وَباعام ہے حالانکہ ایسا کرنا گُناہ ہے اور محمد نام کا بگاڑنا تو