Brailvi Books

عقیقے کے بارے میں سوال جواب
10 - 22
 یہی افضل ہے، ورنہچَودہویں ،ورنہ اِکّیسویں دن۔(فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ ص ۵۸۶ ) صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ،حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : عقیقے کیلئے ساتواں دن بہتر ہے اور اگر ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں ، سُنّت ادا ہوجائے گی ۔ بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اِکّیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بِہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچّہ پیدا ہو اُس دن کو یاد رکھیں ، اُس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے تو وہ ساتواں ہوگا ،مَثَلاً جُمُعہکو پیدا ہوا تو جمعرات ساتواں دن ہے اور سنیچر (یعنی ہفتے) کو پیدا ہوا تو ساتواں دن جُمُعہ ہو گا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کرے گا اس میں ساتویں دن کا حساب ضَرور آئے گا۔(بہارِشریعت ج۳ص۳۵۶)
شادی کے جانور میں عقیقے کی نیّت کرنا کیسا؟
سُوال13:شادی کے جانور میں بعض لو گ دُولھا اور دیگر افراد کے عقیقیکی نیّت کرلیتے ہیں ۔ کیا اس طرح عقیقہ ہوجاتا ہے؟
جواب:اگر جانور قربانی کی شرائِط کے مطابِق ہو اور کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو تو عقیقہ ہوجائے گا۔
گائے میں کتنے عقیقے ہوسکتے ہیں ؟
سُوال14:گائے میں کتنے عقیقے ہوسکتے ہیں ؟