Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
92 - 303
    (۶)اورتیرے گھر والے تجھے الوداع کہنے آئے پھرانہوں نے تجھے رخصت کردیا ، اوران کے دھوکے کے آنسوتجھ پربہہ (کرختم ہو)گئے۔

    (۷) اللہ عزوجل سے ڈر کہ جو اس سے ڈرتاہے وہ جنت میں( نگران فرشتے) حضرت رضوان علیہ السلام کاپڑوسی بن کر رہے گا ۔

    (۸)جنت عدن جس کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی اُس میں رہے گا،اس کی رو ح خوشبو میں رہے گی ۔

    (۹)او رجونافرمانی کریگااس کے لئے ایسی آگ ہے جس کولَظٰی(بھڑکتی آگ) کہا جاتاہے جو چہروں کو بھون دے گی اوربدن کوجلاڈالے گی ۔

    (۱۰) اے میری قوم! ہم رورہے ہیں اورہمیں روناہی چاہے تاکہ ہم سے ہمارے کئے کی پوچھ گچھ نہ ہو۔
فرشتوں کی صدائیں:
    نبیوں کے تاجور،حسنِ اخلاق کے پیکر،محبوب ربِّ اکبرعزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے کہ'' جب آدمی پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طر ف پانچ فر شتے بھیجتاہے۔ پہلافر شۃ اس کے پاس اس وقت آتا ہے جب اس کی روح حلقوم(یعنی حلق) تک پہنچتی ہے ۔ وہ فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے :''اے ابن آدم ! تیرا طاقتوربدن کہاں گیا؟ آج یہ کتنا کمزور ہے ؟ تیری فصیح زبان کہاں گئی ؟آج یہ کتنی خاموش ہے ؟ تیرے گھر والے اور عزیزواقرباء کہاں گئے؟ تجھے کس نے تنہاکردیا۔''

     پھر جب اس کی رو ح قبض کرلی جاتی ہے اور کفن پہنادیا جاتاہے تو دوسرا فرشۃ اس کے پاس آتا ہے او راسے پکار کر کہتا ہے :''اے ابن آدم !تُو نے تنگدستی کے خوف
Flag Counter