Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
256 - 303
غیبت کی سزا
    سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ،فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ حقیقت بنیادہے:'' مسلمان کے قتل ،اس کے مال اور اس کی عزت کو اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے۔''
 (صحیح مسلم،کتاب البرو الصلۃ والآداب،باب تحریم ظلم المسلم،رقم۲۵۶۴،ص۱۳۸۷)
    دل میں غیبت کرنابھی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے حرام ہے، مگر جبکہ کسی کی پہچان کے لئے ضروری ہو اور اس کے بغیر پہچاننا نا ممکن ہو۔
غیبت کی تعریف :
     نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے:'' تو اپنے بھائی کو ایسی چیز کے ذریعے یاد کرے کہ اگروہ سن لے یا یہ بات اسے پہنچے تو اسے ناگوار گزرے اگر چہ تو اس میں سچا ہو خواہ اس کی ذات میں کوئی نقص بیان کرے یا اس کی عقل میں یا اس کے کپڑو ں میں یا اس کے فعل یا قول میں کوئی کمی بیان کرے یا اس کے دین یا اس کے گھر میں کوئی نقص بیان کرے یا اس کی سواری یا اس کی اولاد ، اس کے غلام یا اس کی کنیز میں کوئی عیب بیان کرے یااس سے متعلق کسی شئے کا (برائی کے ساتھ)تذکرہ کرے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا کہ اس کی آستین یادامن لمباہے سب غیبت میں داخل ہیں۔''
Flag Counter