نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے:'' تو اپنے بھائی کو ایسی چیز کے ذریعے یاد کرے کہ اگروہ سن لے یا یہ بات اسے پہنچے تو اسے ناگوار گزرے اگر چہ تو اس میں سچا ہو خواہ اس کی ذات میں کوئی نقص بیان کرے یا اس کی عقل میں یا اس کے کپڑو ں میں یا اس کے فعل یا قول میں کوئی کمی بیان کرے یا اس کے دین یا اس کے گھر میں کوئی نقص بیان کرے یا اس کی سواری یا اس کی اولاد ، اس کے غلام یا اس کی کنیز میں کوئی عیب بیان کرے یااس سے متعلق کسی شئے کا (برائی کے ساتھ)تذکرہ کرے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا کہ اس کی آستین یادامن لمباہے سب غیبت میں داخل ہیں۔''