| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سروسامان تھے۔ تو اللہ سے ڈروکہ کہیں تم شکر گزار ہو جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے۔ (پ4،آل عمران:123تا126)
درس ہدایت:۔
جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد اور سامانِ جنگ کی قلت کے باوجود فتح مبین نے مسلمانوں کے قدموں کا بوسہ لیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ فتح کثرتِ تعداد اور سامانِ جنگ کی فراوانی پر موقوف نہیں۔ بلکہ فتح کا دارومدار نصرتِ خداوندی پر ہے کہ وہ جب چاہتا ہے تو فرشتوں کی فوج آسمان سے میدانِ جنگ میں اتار کر مسلمانوں کی امداد و نصرت فرما دیتا ہے اور مسلمان قلتِ تعداد اور سامانِ جنگ نہ ہونے کے باوجود فتح مند ہو کر کفار کے لشکروں کو تہس نہس کر کے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے دو شرطیں رکھی ہیں، ایک صبر اور دوسرا تقویٰ۔ اگر مسلمان صبر و تقویٰ کے دامن کو تھامے ہوئے خدا کی مدد پر بھروسہ کر کے جنگ میں اَڑ جائیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر محاذ پر فتح مبین مسلمانوں کے قدم چومے گی اور کفار شکست کھا کر راہ فرار اختیار کریں گے یا مسلمانوں کی مار سے فنا ہو کر فی النار ہوجائیں گے۔ بس ضرورت ہے کہ مسلمان صبر و تقویٰ کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر خدا کی مدد کا بھروسہ کر کے کفار کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدانِ جنگ میں استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑے رہیں اور ہرگز ہرگز تعداد کی کمی اور سامانِ جنگ کی قلت و کثرت کی پرواہ نہ کریں کیونکہ فرمانِ خداوندی ہے کہ
وَمَا النَّصْرُ اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللہِ
کہ مدد فرمانے والا تو بس اللہ ہی ہے۔