Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
72 - 414
مردوں کو زندہ کرنا:۔روایت ہے کہ آپ نے چار مردوں کو زندہ فرمایا:۔

(۱)عاذر اپنے دوست کو۔ (۲)ایک بڑھیا کے لڑکے کو۔

(۳)ایک عُشر وصول کرنے والے کی لڑکی کو۔ (۴)حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو۔

عاذر:۔یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک مخلص دوست تھے جب ان کا انتقال ہونے لگا تو ان کی بہن نے آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ کا دوست مررہا ہے۔ اس وقت آپ اپنے دوست سے تین دن کی دوری کی مسافت پر تھے۔ عاذر کے انتقال و دفن کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے اور عاذر کی قبر کے پاس تشریف لے گئے اور عاذر کو پکارا تو وہ زندہ ہو کر اپنی قبر سے باہر نکل آئے اور برسوں زندہ رہے اور صاحب ِ اولاد بھی ہوئے۔

بڑھیا کا بیٹا:۔یہ مرگیا تھا اور لوگ اس کا جنازہ اٹھا کر اس کو دفن کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ ناگہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا تو وہ آپ کی دعا سے زندہ ہو کر جنازہ سے اٹھ بیٹھا اور کپڑا پہن کر اپنے جنازہ کی چارپائی اٹھائے ہوئے اپنے گھر آیا اور مدتوں زندہ رہا اور اس کی اولاد بھی ہوئی۔

عاشر کی بیٹی:۔ایک چنگی وصول کرنے والے کی لڑکی مرگئی تھی۔ اس کی موت کے ایک دن بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہو گئی اور بہت دنوں تک زندہ رہی اور اس کے کئی بچے بھی ہوئے۔
حضرت سام بن نوح:۔
اوپر کے تینوں مردوں کو آپ نے زندہ فرمایا تو بنی اسرائیل کے شریروں نے کہا کہ یہ تینوں درحقیقت مرے ہوئے نہیں تھے بلکہ ان تینوں پر سکتہ طاری تھا اس لئے وہ ہوش میں آگئے لہٰذا آپ کسی پرانے مردہ کو زندہ کر کے ہمیں دکھایئے تو آپ نے فرمایا کہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو وفات پائے ہوئے چار ہزار برس کا زمانہ گزر گیا۔ تم لوگ مجھے ان کی قبر پر لے چلو میں ان کو خدا کے حکم سے زندہ کردیتا ہوں تو آپ نے ان کی قبر
Flag Counter