Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
58 - 414
مِّنْہُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿260﴾٪
ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔ فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (پ3،البقرۃ:260)

درسِ ہدایت:۔مذکورہ بالا قرآنی واقعہ سے مندرجہ ذیل مسائل پر خاص طور سے روشنی پڑتی ہے۔ ان کو بغور پڑھیے اور ہدایت کا نور حاصل کیجئے اور دوسروں کو بھی روشنی دکھایئے۔

مردوں کو پکارنا:۔چاروں پرندوں کا قیمہ بنا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہاڑوں پر رکھ دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ثُمَّ ادْعُھُنَّ یعنی ان مردہ پرندوں کو پکارو۔ چنانچہ آپ نے چاروں کو نام لے کر پکارا تو اس سے یہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ مردوں کو پکارنا شرک نہیں ہے کیونکہ جب مردہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے پکارنے کا حکم فرمایا اور ایک جلیل القدر پیغمبر نے ان مردوں کو پکارا تو ہرگز ہرگز یہ شرک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خداوند کریم کبھی بھی کسی کو شرک کا حکم نہیں دے گا نہ کوئی نبی ہرگز ہرگز کبھی شرک کا کام کرسکتا ہے۔ تو جب مرے ہوئے پرندوں کو پکارنا شرک نہیں تو وفات پائے ہوئے خدا کے ولیوں اور شہیدوں کا پکارنا کیونکر شرک ہوسکتا ہے، جو لوگ ولیوں اور شہیدوں کے پکارنے کو شرک کہتے ہیں اور یاغوث کا نعرہ لگانے والوں کو مشرک کہتے ہیں، انہیں تھوڑی دیر سر جھکا کر سوچنا چاہے کہ اس قرآنی واقعہ کی روشنی میں انہیں ہدایت کا نور نظر آجائے اور وہ اہل سنت کے طریقے پر صراط مستقیم کی شاہراہ پر چل پڑیں۔ (واللہ الموفق)
Flag Counter