Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
55 - 414
صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں، آپ کا عصا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی پگڑی تھی، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ صندوق اس قدر مقبول اور مکرم و معظم ہو گیا کہ فرشتوں نے اس کو اپنے نورانی کندھوں پر اٹھا کر حضرت شمویل علیہ السلام کے دربارِ نبوت میں پہنچایا اور خداوند قدوس نے قرآن مجید میں اس بات کی شہادت دی کہ
فِیْہِ سَکِّیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ
یعنی اس صندوق میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ یعنی مومنوں کے قلوب کا اطمینان اور ان کی روحوں کی تسکین کا سامان تھا۔ مطلب یہ کہ اس پر رحمتِ الٰہی کے انوار و برکات کا نزول اور اس پر رحمتوں کی بارش ہوا کرتی تھی تو معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات جہاں اور جس جگہ بھی ہوں گے ضرور ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہو گا۔ اور اس پر نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے مومنین کو سکونِ قلب اور اطمینانِ روح کے فیوض و برکات ملتے رہیں گے۔

(۲)جس صندوق میں اللہ والوں کے لباس و عصا اور جوتیاں ہوں جب اس صندوق پر اطمینان کا سکینہ اور انوار و برکات کا خزینہ خدا کی طرف سے اترنا، قرآن سے ثابت ہے تو بھلا جس قبر میں ان بزرگوں کا پورا جسم رکھا ہو گا، کیا ان قبروں پر رحمت و برکت اور سکینہ و اطمینان نہیں اترے گا؟ ہر عاقل انسان جس کو خداوند عالم نے بصارت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت بھی عطا فرمائی ہے، وہ ضرور اس بات پر ایمان لائے گا کہ جب بزرگوں کے لباس اور ان کی جوتیوں پر سکینہ رحمت کا نزول ہوتا ہے تو ان بزرگوں کی قبروں پر بھی رحمتِ خداوندی کا خزینہ ضرور نازل ہو گا۔ اور جب بزرگوں کی قبروں پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تو جو مسلمان ان مقدس قبروں کے پاس حاضر ہو گا ضرور اس پر بھی بارشِ انوار رحمت کے چند قطرات برس ہی جائیں گے کیونکہ جو موسلا دھار بارش میں کھڑا ہو گا ضرور اس کا کپڑا اور بدن بھیگے گا، جو دریا میں غوطہ لگائے گا ضرور اس کا بدن پانی سے تر ہو گا، جو عطر کی دوکان پر بیٹھے گا ضرور اس کو خوشبو نصیب ہو گی۔ تو ثابت ہو گیا کہ جو بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیں گے ضرور وہ فیوض و برکات
Flag Counter