| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کے آلاتِ جنگ بھی اسی سے تیار ہوتے ہیں اور انسانوں کی ضروریات کے ہزاروں سامان ایسے ہیں کہ بغیر لوہے کے تیار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَمَنَافِعُ لِلنَّاس کہ اس ''لوہے'' میں لوگوں کے لئے بے شمار فوائد و منافع ہیں۔ بہرحال لوہا خداوند تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذا لوہے کا ہر سامان دیکھ کر خداوند قدوس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۶۰)صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سخاوت
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے بطور ہدیہ ایک صحابی کے گھر بکری کا ایک سر بھیج دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ہم سے زیادہ تو میرا فلاں بھائی اس سر کا ضرورت مند ہے۔ وہ سر اس کے گھر بھیج دیا تو اُس نے کہا کہ میرا فلاں بھائی مجھ سے بھی زیادہ محتاج ہے۔ یہ کہا اور وہ سر اُس صحابی کے گھر بھیج دیا۔ اسی طرح ایک نے دوسرے کے گھر اور دوسرے نے تیسرے کے گھر اُس سر کو بھیج دیا یہاں تک کہ جب یہ سر چھٹے صحابی کے پاس پہنچا تو انہوں نے سب سے پہلے والے کے گھر یہ کہہ کر بھیج دیا کہ وہ ہم سے زیادہ مفلس اور حاجت مند ہیں اس طرح وہ سر جس گھر سے سب سے پہلے بھیجا گیا تھا پھر اسی گھر میں آگیا۔ اس موقع پر سورہ حشر کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں اللہ جل جلالہٗ نے صحابہ کرام کی سخاوت کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے:
وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ9﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔ (پ28،الحشر:9) یہ تو زمانہ رسالت کا ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی