Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
367 - 414
رکھ دیا۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ حضرت اسرافیل کو دیکھ لیتے تو آپ کا کیا حال ہوتا؟ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے بارہ ہزار بازو عطا فرمائے ہیں اور ان کا ایک بازو مشرق میں ہے اور دوسرا بازو مغرب میں ہے اور وہ عرشِ الٰہی کو اپنے کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔
             			(تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۶۸۶، پ ۲۲، فاطر:۱)
فرشتوں کے بازوؤں اور پروں کا ذکر سورہ فاطر کی اس آیت میں ہے کہ:
اَلْحَمْدُ لِلہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیۡۤ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ؕ یَزِیۡدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿1﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں۔ بڑھاتا ہے آفرینش میں جو چاہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (پ22،فاطر :1)

درسِ ہدایت:۔فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ فرشتوں کے بازو اور پر بھی ہیں۔ کسی کے دو دو کسی کے تین تین کسی کے چار چار۔ اور کسی کے اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ فرشتوں کے اتنے زیادہ پر کیونکر اور کس طرح ہیں؟ تو قرآن نے اس کا شافی اور مسکت جواب دے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کوئی حد نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ لہٰذا وہ سب کچھ کرسکتا ہے وہ فرشتوں کو بال و پر بھی عطا فرما سکتا ہے اور بلاشبہ عطا فرمائے بھی ہیں لہٰذا اس سلسلے میں بحث و مباحثہ اور سوال و جواب یہ سب گمراہی کے دروازے ہیں۔ ایمان کی خیریت اسی میں ہے کہ بغیر چون وچرا کے اس پر ایمان لائیں اور کیوں اور کیسے کے علم کو اللہ اعلم کہہ کر خدا کے سپرد کردیں۔
           (۵۲)ابوجہل کی گردن کا طوق
Flag Counter