Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
36 - 414
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیۡنَ اعْتَدَوۡا مِنۡکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَہُمْ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿ۚ65﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بے شک ضرور تمہیں معلوم ہے تم کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہو جاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔ (پ1،البقرۃ:65)

اور مفصل واقعہ سورہ اعراف میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:۔

اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی۔ جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے۔ جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا۔ بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو اور شاید انہیں ڈر ہو پھر جب وہ بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچا لئے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے۔ اور ظالموں کو بُرے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا۔ پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دتکارے ہوئے۔
                      			(پ۹،الاعراف:۱۶۳تا۱۶۶)
درس ہدایت:۔معلوم ہوا کہ شیطانی حیلہ بازیوں میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیوں کا انجام کتنا برا اور کس قدر خطرناک ہوتا ہے۔ اور خدا کے نبی جن بدنصیبوں پر لعنت فرما دیں وہ کیسے ہولناک عذابِ الٰہی میں گرفتار ہو کر دنیا سے نیست و نابود ہو کر عذاب نار میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اور دونوں جہاں میں ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔
 (نعوذباللہ منہ)
اصحابِ ایلہ کے اس دل ہلا دینے والے واقعہ میں ہر مسلمان کے لئے بہت بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کا سامان ہے۔ کاش!اس واقعہ سے مسلمانوں کے قلوب میں خوفِ خداوندی کی لہر
Flag Counter