Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
359 - 414
میں جکڑے ہوئے یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں۔ (پ23،صۤ:37۔39)

درسِ ہدایت:۔بعض ملحدین جن کو معجزات کے انکار اور انکارِ جن کا مرض ہو گیا ہے وہ لوگ ان آیتوں کے بارے میں عجیب عجیب مضحکہ خیز باتیں بکتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ''جن''سے مراد انسانوں کی ایک ایسی قوم ہے جو اس زمانے میں بہت قوی ہیکل اور دیو پیکر تھی اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کسی کے قابو میں نہیں آتی تھی اور حیوانات کی تسخیر کے بارے میں یہ بکتے ہیں کہ قرآن میں اس سلسلے کا ذکر صرف '' ہُدہُد '' سے متعلق ہے اور یہاں '' ہُدہُد'' سے پرند مراد نہیں ہے بلکہ ہُدہُد ایک آدمی کا نام تھا جو پانی کی تفتیش پر مقرر تھا۔اس قسم کی لغویات اور رکیک باتیں کرنے والے یا تو جذبہ الحاد میں قصداً قرآن مجید کی تحریف کرتے ہیں یا قرآن کی تعلیمات سے جاہل ہونے کے باوجود اپنے دعویٰ بلادلیل پر اصرار کرتے رہتے ہیں۔

خوب سمجھ لو کہ قرآن مجید نے ''جن''کے متعلق جابجا بصراحت یہ اعلان کیا کہ وہ انسانوں سے جدا خدا کی ایک مخلوق ہے صرف ایک آیت پڑھ لو جو اس بارے میں قول فیصل ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿56﴾
یعنی ہم نے جن اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا کے عبادت گزار بنیں۔(پ27،الذاریات:56)

دیکھ لو اس آیت میں جن کو ایک انسان سے جدا ایک مخلوق ظاہر کر کے دونوں کی تخلیق کی حکمت بیان کی گئی ہے لہٰذا اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ جن انسانوں ہی میں سے ایک قوی ہیکل قوم کا نام ہے، غور کیجئے کہ یہ کتنی بڑی جہالت کی بات ہے۔

اسی طرح جب '' ہُدہُد'' کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف صاف پرند فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ
وَ تَفَقَّدَ الطَّیۡرَ
(پ19، النمل:20) یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کا جائزہ لیا تو اس تصریح کے بعد کسی کو کیا حق ہے کہ اس کے خلاف کوئی رکیک اور لچر تاویل کرے۔ اور یہ کہے کہ ہُدہُد پرند نہیں تھا بلکہ ایک آدمی کا
Flag Counter