میں جکڑے ہوئے یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں۔ (پ23،صۤ:37۔39)
درسِ ہدایت:۔بعض ملحدین جن کو معجزات کے انکار اور انکارِ جن کا مرض ہو گیا ہے وہ لوگ ان آیتوں کے بارے میں عجیب عجیب مضحکہ خیز باتیں بکتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ''جن''سے مراد انسانوں کی ایک ایسی قوم ہے جو اس زمانے میں بہت قوی ہیکل اور دیو پیکر تھی اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کسی کے قابو میں نہیں آتی تھی اور حیوانات کی تسخیر کے بارے میں یہ بکتے ہیں کہ قرآن میں اس سلسلے کا ذکر صرف '' ہُدہُد '' سے متعلق ہے اور یہاں '' ہُدہُد'' سے پرند مراد نہیں ہے بلکہ ہُدہُد ایک آدمی کا نام تھا جو پانی کی تفتیش پر مقرر تھا۔اس قسم کی لغویات اور رکیک باتیں کرنے والے یا تو جذبہ الحاد میں قصداً قرآن مجید کی تحریف کرتے ہیں یا قرآن کی تعلیمات سے جاہل ہونے کے باوجود اپنے دعویٰ بلادلیل پر اصرار کرتے رہتے ہیں۔
خوب سمجھ لو کہ قرآن مجید نے ''جن''کے متعلق جابجا بصراحت یہ اعلان کیا کہ وہ انسانوں سے جدا خدا کی ایک مخلوق ہے صرف ایک آیت پڑھ لو جو اس بارے میں قول فیصل ہے۔