کرتی رہتی ہیں اور پھلوں پھولوں کی تلاش میں جنگلوں اور میدانوں میں سینکڑوں میل الگ الگ دور دور تک چلی جاتی ہیں مگر یہ اپنے چھتوں کو نہیں بھولتی ہیں اور بلا تکلف کسی تلاش کے سیدھے سینکڑوں میل کی دوری سے اپنے چھتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔
(۶)یہ مکھیاں مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں کا شہد تیار کرتی ہیں، کبھی سرخ، کبھی سفید، کبھی سیاہ، کبھی زرد، کبھی پتلا، کبھی گاڑھا، مختلف موسموں میں اور مختلف پھلوں پھولوں کی بدولت شہد کے مختلف رنگ اور ذائقے بدلتے رہتے ہیں۔
(۷)یہ اپنے چھتے کبھی درختوں پر ،کبھی پہاڑوں پر ،کبھی گھروں میں ،کبھی دیواروں کے سوراخوں میں ،کبھی زمین کے اندر بنایا کرتی ہیں اور ہر جگہ یکساں ڈسپلن اور نظام کے ساتھ ان کا کارخانہ چلتا رہتا ہے۔
(۸)نافرمان اور باغی مکھیوں کو ان کا ''یعسوب'' مناسب سزائیں بھی دیتا ہے یہاں تک کہ بعض کو قتل بھی کروادیتا ہے اور سب کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ کبھی کوئی شہد کی مکھی کسی نجاست پر نہیں بیٹھ سکتی اور اگر کوئی کبھی بیٹھ جائے تو ان کا بادشاہ ''یعسوب''اس کو سخت سزا دے کر چھتے سے نکال دیتا ہے۔
قرآن مجید نے اس شہد کی مکھیوں کے مسائل کا خطبہ پڑھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔