| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
طرح بنی اسرائیل کے ہر چھوٹے بڑے نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سر سے پاؤں تک آپ کے مقدس بدن میں کہیں بھی کوئی عیب نہیں ہے بلکہ آپ کے جسم اقدس کا ہر حصہ حسن و جمال میں اس قدر نقطہ کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ عام انسانوں میں اس کی مثال تقریباً محال ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے ہر ہر فرد کی زبان پر یہی جملہ تھا کہ
وَاللہِ مَابِمُوْسٰی مِنْ بَاس
یعنی خدا کی قسم موسیٰ بالکل ہی بے عیب ہیں۔ جب یہ پتھر پوری طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی برأت کا اعلان کرچکا تو خود بخود ٹھہر گیا۔ آپ نے جلدی سے اپنا لباس پہن لیا اور اس پتھر کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔
(بخاری شریف، کتاب الانبیاء، باب ۳۰،ج۲، ص۴۴۲،رقم ۳۴۰۴ ،تفسیر الصاوی،ج۵،ص۱۶۵۹،پ۲۲،الاحزاب:۶۹)
اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوْا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَکَانَ عِنۡدَ اللہِ وَجِیۡہًا ﴿69﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اے ایمان والو اُن جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے اسے بری فرما دیا اس بات سے جو اُنہوں نے کہی۔ اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے۔(پ22،الاحزاب:69) دوسرا معجزہ:۔''میدان تیہ'' میں اسی پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا ماردیا تھا تو اس میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے تھے جس کے پانی کو چالیس برس تک بنی اسرائیل میدان تیہ میں استعمال کرتے رہے۔ جس کا پورا واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔ قرآن مجید کی آیت
فَقُلْنَا اضْرِبۡ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ
(پ1،البقرۃ:60) میں ''پتھر''سے یہی پتھر مراد ہے۔