Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
285 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ تعالیٰ کو ناپسندہیں۔ اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ تعالیٰ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔ ( پ7،المائدۃ:87)

درسِ ہدایت:۔ ان آیات سے سبق ملتا ہے کہ اسلام میں سادھو بن کر زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں ہے، عمدہ غذاؤں اور اچھے کپڑوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا کر اور بیوی بچوں سے قطع تعلق کر کے سادھوؤں کی طرح کسی کٹیا میں دھونی رما کر بیٹھ رہنا، یا جنگلوں اور بیابانوں میں چکر لگاتے رہنا ، یہ ہرگز ہرگز اسلامی طریقہ نہیں ہے۔ خوب سمجھ لو کہ جو مفت خور بابا لوگ اس طرح کی زندگی گزار کر اپنی درویشی کا ڈھونگ رچا کر کٹیوں یا میدانوں میں بیٹھے ہوئے اپنی بابائیت کا پرچار کررہے ہیں اور جاہلوں کو اپنے دام تزویر میں پھانسے ہوئے ہیں۔ خوب آنکھ کھول کر دیکھ لو اور کان کھول کر سن لو کہ یہ سادھوؤں کا رنگ ڈھنگ اسلامی طریقہ نہیں ہے بلکہ اصل اور سچا اسلام وہی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ان کے مقدس طریقے کے مطابق ہو۔ لہٰذا جو شخص سنتوں کا دامن تھام کر زندگی بسر کررہا ہو، درحقیقت اسی کی زندگی اسلامی زندگی ہے اور صوفیہ کرام کی درویشانہ زندگی بھی یہی ہے۔

     خوب سمجھ لو کہ نبوت کی سنتوں کو چھوڑ کر زندگی کا جو طریقہ بھی اختیار کیا جائے وہ درحقیقت نہ اسلامی زندگی ہے نہ صوفیہ کی درویشانہ زندگی۔ لہٰذا آج کل جن باباؤں نے راہبانہ اور سادھوؤں کی زندگی اختیار کررکھی ہے ان کے اس طرز عمل کو اسلام اور بزرگی سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنا چاہے۔ اور یقین رکھنا چاہے کہ یہ سب مکر و کید کا خوبصورت جال بچھائے ہوئے ہیں جس میں بھولے بھالے عقیدت مند مسلمان پھنسے رہتے ہیں اور اس بہانے بابا لوگ اپنا اُلو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ ایک سچی حقیقت کا