Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
278 - 414
تھا جو ''ذوالحمار'' کے لقب سے مشہور تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل اور یمن کے سرداروں کو فرمان بھیجا کہ مرتدین سے جہاد کریں۔ چنانچہ فیروز دیلمی کے ہاتھ سے اسود عنسی قتل ہوا اور اس کی جماعت بکھر گئی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بستر علالت پر یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اسود عنسی قتل ہو گیا ہے۔ اس کے دوسرے دن ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہو گیا۔

(۲)قبیلہ بنو حنیفہ جس کا سردار ''مسیلمہ کذاب'' تھا۔ جس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاد فرمایا اور لڑائی کے بعد حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مسیلمۃ الکذاب مقتول ہوا اور اس کا گروہ کچھ قتل ہو گیا اور کچھ دوبارہ دامنِ اسلام میں آگئے۔

(۳)قبیلہ بنو اسد، جس کا امیر طلحہ بن خویلد تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مقابلہ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور جنگ کے بعد طلحہ بن خویلد شکست کھا کر ملک شام بھاگ گیا مگر پھر دوبارہ اسلام قبول کرلیا اور آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہا اور اس کی فوج کچھ کٹ گئی کچھ تائب ہو کر پھر دوبارہ مسلمان ہو گئے۔
خلافت صد یق اکبر کے سات مرتد قبائل:۔
 (۱)قبیلہ فزارہ جس کا سردار عیینہ بن حصن فزاری تھا (۲)قبیلہ غطفان جس کا سردار قرہ بن سلمہ قشیری تھا(۳)قبیلہ بنو سلیم جس کا سرغنہ فجاء ۃ بن یالیل تھا (۴)قبیلہ بنی یربوع جس کا سربراہ مالک بن بریدہ تھا (۵)قبیلہ بنو تمیم جن کی امیر سجاح بنت منذر ایک عورت تھی جس نے مسیلمۃالکذاب سے شادی کرلی تھی(۶)قبیلہ کندہ جو اشعث بن قیس کے پیروکار تھے (۷)قبیلہ بنو بکر جو خطمی بن یزید کے تابعدار تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان مرتد ہونے والے ساتوں قبیلوں سے مہینوں تک بڑی خونریز جنگ فرمائی۔ چنانچہ کچھ ان میں سے مقتول ہو گئے اور کچھ توبہ کر کے پھر دامنِ اسلام میں آگئے۔
Flag Counter