ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو۔(پ1،البقرۃ:55،56)
درسِ ہدایت:۔(۱)اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے پیغمبر کی بات نہ مان کر اپنی ضد پر اڑے رہنا بڑی ہی خطرناک بات ہے پھر ان ستر آدمیوں کا مر کر زندہ ہوجانا یہ خداوند قدوس کی قدرت کاملہ کا اظہار و اعلان ہے، تاکہ لوگ ایمان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب مرے ہوئے انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔
(۲) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا قانون یہ تھا کہ گناہ ِ شرک کرنے والوں کو قتل کردیا جائے ،پھر قوم کے نیک لوگ ان کے لئے طلب معذرت اور دعاءِ مغفرت کریں، تب ان شرک کرنے والوں کی توبہ قبول ہوتی تھی۔ مگر ہمارے حضور سید الانبیاء خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت چونکہ آسان شریعت ہے اس لئے اس کے قانون میں توبہ قبول ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ گناہ کرنے والے نے اگرچہ کفر و شرک کا گناہ کرلیا ہو سچے دل سے اپنے گناہ پر اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہو کر معافی طلب کرے اور اپنے دل میں یہ عہد و عزم کرے کہ پھر وہ یہ گناہ نہیں کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لے گا اور اس کے گناہ کو معاف فرما دے گا۔ توبہ قبول ہونے کے لئے گناہ کرنے والوں کو قتل نہیں کیا