Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
256 - 414
حدیث شریف میں ہے کہ ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے۔
اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم
یعنی عمل کا اعتبار خاتموں پر ہے۔
 (مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب الایمان بالقدر، الفصل الاول، ص ۲۰ )
خداوندکریم ہر مسلمان کو خاتمہ بالخیر کی سعادت نصیب فرمائے اور برے انجام اور برے خاتمہ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۲)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم ہو یا جاہل متقی ہو یا گنہ گار ہر آدمی کو زندگی بھر شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور اس کے فریبوں سے بچتے رہنا چاہے۔ کیونکہ شیطان نے قسم کھا کر خدا کے حضور میں اعلان کردیا ہے کہ میں آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے وسوسہ ڈال کر تیرے بندوں کو صراط مستقیم سے بہکاتا رہوں گا اور بہت سے بندوں کو خدا کا شکر گزار ہونے سے روک دوں گا۔

(۳)شیطان نے آگے پیچھے اور دائیں بائیں چار جانبوں سے انسانوں پر حملہ آور ہونے اور وسوسہ ڈالنے کا اعلان کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اوپر اور نیچے ان دو جانبوں سے شیطان انسانوں پر کبھی حملہ آور نہیں ہو گا نہ اوپر اور نیچے کی جانب سے کوئی وسوسہ ڈال سکے گا۔ لہٰذا اگر کوئی انسان اپنے اوپر یا نیچے کی طرف سے کوئی روشنی یا کوئی بھی حیرت انگیز و تعجب خیز چیز دیکھے تو اسے سمجھ لینا چاہے کہ یہ شیطانی کرتب یا ابلیس کا وسوسہ نہیں ہے بلکہ اس کو خیر سمجھ کر اس کی جانب متوجہ ہو اور خداوند قدوس کی طرف سے خیر اور بھلائی کی امید رکھے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۵)بنی اسرائیل پر طاعون کا عذاب
جب ''میدان تیہ'' میں بنی اسرائیل نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم زمین سے اگنے والے غلے اور ترکاریاں کھائیں گے تو ان لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ تم لوگ
Flag Counter