حضرت آدم علیہ السلام کی کنیت ابو محمد یا ابو البشر اور آپ کا لقب ''خلیفۃ اللہ''ہے اور آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ آپ نے نو سو ساٹھ برس کی عمر پائی اور بوقت وفات آپ کی اولاد کی تعداد ایک لاکھ ہوچکی تھی۔ جنہوں نے طرح طرح کی صنعتوں اور عمارتوں سے زمین کو آباد کیا۔
(تفسیر صاوی،ج۱،ص ۴۸،پ۱،البقرۃ :۳۰)
قرآن مجید میں بار بار اس مضمون کا بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔ چنانچہ سورئہ آل عمران میں ارشاد فرمایا کہ:۔
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿59﴾
(پ3،اٰل عمران: 59)
ترجمہ کنزالایمان :۔ عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
دوسری آیت میں اس طرح فرمایا کہ:۔
اِنَّا خَلَقْنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ (پ23،الصّافات: 11)
ترجمہ کنزالایمان:۔بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا۔
کہیں یہ فرمایا کہ:۔