Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
216 - 414
لے آئیں۔ جب فرعون کو خبر ہوئی تو اس ظالم نے ان پر بڑے بڑے عذاب کئے، بہت زیادہ زدو کوب کے بعد چومیخا کردیا یعنی چار کھونٹیاں گاڑ کر حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کے چاروں ہاتھوں پیروں میں لوہے کی میخیں ٹھونک کر چاروں کھونٹوں میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھیں اور بھاری پتھر سینہ پر رکھ کر دھوپ کی تپش میں ڈال دیا اور دانہ پانی بند کردیا لیکن ان مصائب و شدائد کے باوجود وہ اپنے ایمان پر قائم و دائم رہیں اور فرعون کے کفر سے خدا عزوجل کی پناہ اور جنت کی دعائیں مانگتی رہیں اور اسی حالت میں اُن کا خاتمہ بالخیر ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئیں اور ابن کیسان کا قول ہے کہ وہ زندہ ہی اُٹھا کر جنت میں پہنچا دی گئیں۔

مریم:۔مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس لئے ان کی قوم نے طعن اور بدگوئیوں سے ان کو بڑی بڑی ایذائیں پہنچائیں مگر یہ صابر رہ کر اتنے بڑے بڑے مراتب و درجات سے سرفراز ہوئیں کہ خداوند ِ قدوس نے قرآن مجید میں ان کی مدح و ثنا کا بار بار خطبہ ارشاد فرمایا ۔ان چاروں عورتوں کے بارے میں قرآن مجید نے سورئہ تحریم میں فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے:۔

''اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال دیتا ہے۔ جیسے حضرت نوح (علیہ السلام)کی عورت (واہلہ)اور حضرت لوط (علیہ السلام)کی عورت (واعلہ)یہ دونوں ہمارے دو مقرب بندوں کے نکاح میں تھیں۔ پھر ان دونوں نے ان دونوں سے دغا کیا تو وہ دونوں پیغمبران، ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آئے اور ان دونوں عورتوں کے بارے میں خدا کا یہ فرمان ہو گیا کہ تم دونوں جہنمی عورتوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مثال بیان فرماتا ہے۔ فرعون کی بیوی (آسیہ)جب انہوں نے عرض کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی