Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
206 - 414
درسِ ہدایت:۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تینوں مبلغین یعنی صادق و مصدوق اور شمعون کی سرگزشت اور تبلیغ دین کی راہ میں ان حضرات کی دشواریاں اور قید و بند کے مصائب اور ہوش رُبا دھمکیوں کو دیکھ کر یہ سبق ملتا ہے کہ تبلیغ دین کرنے والوں کو بڑی بڑی مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر جب آدمی اس راہ میں مستقل مزاج بن کر ثابت قدم رہتا ہے اور صبر و تحمل کے ساتھ اس دینی کام میں ڈٹا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ غیب سے اُس کی کامیابی کا سامان پیدا فرمادیتا ہے وہ مُقَلِّبُ الْقُلُوْب اور ہادی ہے وہ ایک لمحہ میں منکرین کے دلوں کو بدل دیتا ہے اور دلوں کی گمراہی دور فرما کر ہدایت کا نور بخش دیتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۵۵)پھولا باغ منٹوں میں تاراج
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے تھوڑے دنوں بعد کا واقعہ ہے کہ یمن میں ''صنعا'' شہر سے دو کوس کی دوری پر ایک باغ تھا جس کا نام ''ضردان''تھا۔ اس باغ کا مالک بہت ہی نیک نفس اور سخی آدمی تھا۔ اُس کا دستور یہ تھا کہ پھلوں کو توڑنے کے وقت وہ فقیروں اور مسکینوں کو بلاتا تھا اور اعلان کردیتا تھا کہ جو پھل ہوا سے گرپڑیں یاجوہماری جھولی سے الگ جاکرگریں وہ سب تم لوگ لے لیاکرو۔اس طرح اس باغ کابہت ساپھل فقراء ومساکین کو مل جایا کرتا تھا۔ باغ کا مالک مر گیا تو اُس کے تینوں بیٹے اس باغ کے مالک ہوئے مگر یہ تینوں بہت بخیل ہوئے۔ ان لوگوں نے آپس میں طے کرلیا کہ اگر فقیروں اور مسکینوں کو ہم لوگ بلائیں گے تو بہت سے پھل یہ لوگ لے جائیں گے اور ہم لوگوں کے اہل وعیال کی روزی میں تنگی ہوجائے گی۔ چنانچہ ان تینوں بھائیوں نے قسم کھا کر یہ طے کر لیا کہ سورج نکلنے سے قبل ہی چل کر ہم لوگ باغ کا پھل توڑ لیں تاکہ فقراء و مساکین کو خبر ہی نہ ہو۔ چنانچہ ان لوگوں کی بدنیتی کی نحوست نے یہ اثر بد دکھایا کہ ناگہاں رات ہی میں اللہ تعالیٰ نے باغ میں ایک آگ بھیج دی۔ جس نے پورے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کرڈالا اور ان لوگوں کو اس
Flag Counter