Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
183 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے ایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو!اپنے گھروں میں چلی جاؤتمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تو اس کی بات سے مسکرا کر ہنسا۔

درسِ ہدایت:۔اس قرآنی واقعہ سے چند اسباق ہدایات معلوم ہوئے۔

(۱) چیونٹی کی آواز کو تین میل کی دوری سے سن لینا یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بصارت و سماعت کو عام انسانوں کی بصارت و سماعت پر قیاس نہیں کرسکتے بلکہ حق یہ ہے کہ انبیاء کرام کا سننا اور دیکھنا اور دوسری طاقتیں عام انسانوں کی طاقتوں سے بڑھ چڑھ کر ہوا کرتی ہیں۔

(۲)چیونٹی کی تقریر سے معلوم ہوا کہ چیونٹیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ کسی نبی کے صحابی جان بوجھ کر کسی پر ظلم نہیں کرسکتے کیونکہ چیونٹی نے
''وَھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ''
کہا یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی فوج اگر چیونٹیوں کو کچل ڈالیں گے تو بے خبری کے عالم میں لاشعوری طور پر ایسا کریں گے۔ ورنہ جان بوجھ کر ایک نبی کے صحابی ہوتے ہوئے وہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کریں گے۔ افسوس کہ چیونٹیاں تو یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ نبی کے صحابی جان بوجھ کر کسی پر ظلم نہیں کرسکتے۔ مگر رافضیوں کا گروہ ان چیونٹیوں سے بھی گیا گزرا ثابت ہوا کہ ان ظالموں نے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس صحابہ پر تہمت لگائی کہ ان بزرگوں نے جان بوجھ کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اہل بیت پر ظلم کیا۔ (معاذاللہ)

(۳)یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ہنسنا، تبسم اور مسکراہٹ ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے کہ یہ حضرات کبھی قہقہہ مار کر نہیں ہنستے۔
         				(خزائن العرفان،ص۶۸۰ا،پ۱۹،النمل:۱۹)
لطیفہ:۔منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت قتادہ محدث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جو نہایت ہی بلند
Flag Counter