کی نصیحت کو اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے ماردے اور قسم نہ توڑ بیشک ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔
الغرض حضرت ایوب علیہ السلام اس امتحان میں پورے پورے کامیاب ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نوازشوں اور عنایتوں سے ہر طرح سرفراز فرما دیا اور قرآن مجید میں ان کی مدح خوانی فرما کر ''اَوَّابٌ'' کے لاجواب خطاب سے ان کے سر مبارک پر سربلندی کا تاج رکھ دیا۔
درسِ ہدایت:۔حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ امتحان میں یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا بھی خدا کی طرف سے امتحان ہوا کرتا ہے اور جب وہ امتحان میں کامیاب اور آزمائش میں پورے اترتے ہیں تو خداوند قدوس ان کے مراتب و درجات میں اتنی اعلیٰ سربلندی عطا فرما دیتا ہے کہ کوئی انسان اس کو سوچ بھی نہیں سکتا اور اس واقعہ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ امتحان کی آزمائش کے وقت صبر کرنا اور خداوند عالم عزوجل کی رضا پر راضی رہنا اس کا پھل کتنا اچھا، کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے۔