Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
132 - 414
کیفیات طاری ہوتی رہتی ہیں۔ سچ ہے  ؎
                    لذتِ مے نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
اور اس حال و کیفیت کا طاری ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ ذکر و فکر اور مراقبہ کے ساتھ ساتھ شیخ کامل کی باطنی توجہ سے دل کی صفائی اور انجلاء قلبی پیدا ہوجائے۔ سلطان تصوف حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔
   صد کتاب و صدورق در نار کُن        روئے دل را جانب دلدار کُن
اور کسی دوسرے عارف نے یہ فرمایا کہ :
                از''کنز'' و''ہدایہ ''نہ تواں یافت خدارا

                   سی پارہ دل خواں کہ کتابے بہ ازیں نیست
یعنی خالی ''کنزالدقائق''و ''ہدایہ''پڑھ لینے سے خدا نہیں مل سکتا بلکہ دل کے سپارے کو پڑھو کیونکہ اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے۔ مگر اس دور نفسانیت میں جب کہ تصوف کے عَلم برداروں نے اپنی بے عملی سے تصوف کے مضبوط و مستحکم محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور محض جھاڑ پھونک اور شعبدہ بازیوں پر پیری مریدی کا ڈھونگ چلا رہے ہیں اور خالی رنگ برنگ کے کپڑوں اور نئی نئی تراش خراش کی پوشاکوں اور تسبیح و عصا کو شیخیت کا معیار بنا رکھا ہے۔ بھلا تصوف کی حقیقی کیفیات و تجلیات کو لوگ کب اور کیسے اور کہاں سے سمجھ سکتے ہیں؟ اس لئے اس بارے میں ارباب تصوف اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ  ؎
     حقیقت خرافات میں کھو گئی           یہ اُمت روایات میں کھو گئی
(۳۴)سورہ یوسف کا خلاصہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ فرمایا ہے۔اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی مقدس زندگی کے اتار چڑھاؤ
Flag Counter