| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں )کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔ یہودا مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا لے کر جیسے ہی کنعان کی طرف چلا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو سونگھ لی۔ اس بارے میں حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک بڑی ہی نصیحت آموز اور لذیذ حکایت لکھی ہے جو بہت ہی دلکش اور نہایت ہی کیف آور ہے۔ حکایت: یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند کہ اے عالی گہر! پیر خرد مند حضرت یعقوب علیہ السلام سے جن کے فرزند گم ہو گئے تھے، کسی نے یہ پوچھا کہ اے عالی ذات اور بزرگ عقلمند ؎
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں )کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔ یہودا مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا لے کر جیسے ہی کنعان کی طرف چلا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو سونگھ لی۔ اس بارے میں حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک بڑی ہی نصیحت آموز اور لذیذ حکایت لکھی ہے جو بہت ہی دلکش اور نہایت ہی کیف آور ہے۔
حکایت:
یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند کہ اے عالی گہر! پیر خرد مند
حضرت یعقوب علیہ السلام سے جن کے فرزند گم ہو گئے تھے، کسی نے یہ پوچھا کہ اے عالی ذات اور بزرگ عقلمند ؎
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہِ کنعانش ندیدی
آپ نے مصر جیسے دور دراز مقام سے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کی خوشبو سونگھ لی۔ اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کنعان ہی کی سرزمین میں ایک کنوئیں کے اندر تھے تو آپ کو اتنے قریب سے بھی اُن کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ ؎
بگفتا حال ما برق جہان است د مے پیدا و دیگر دم نہان است
گہے برطارمِ اعلیٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینمیعنی ہم اللہ والوں کا حال کوندنے والی بجلی کی مانند ہے کہ دم بھر میں ظاہر اور دم بھر میں پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ کبھی تو ہم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی صفاتِ نورانیہ کی تجلی ہوتی ہے تو ہم لوگ