چھوٹے اور بڑے سے بڑے حُقوق العباد (یعنی بندوں کے حقوق) تصوُّر کئے جاسکتے ہیں ،فرض کیجئے کہ وہ حُقُوق میں نے،غلامزادوں اور نگران واراکین شوریٰ نے آپ کے تَلَف (یعنی ضائِع)کردیئے ہیں ، ان تمام حُقوق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمارے سبب سے تلف شدہ حقوق مُعاف مُعاف اور مُعاف فرما کر ثوابِ عظیم کے حقدار بنئے۔ہاتھ باندھ کر مَدَنی اِلتِجاء ہے کہ کم از کم ایک بار دل کی گہرائی کے ساتھ کہدیجئے : ’’ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئے محمد الیاس عطّارؔ قادِری رضوی، غلامزادوں اور نگران واراکینِ شوریٰ کو مُعاف کیا۔‘‘ہم سب نے بھی ہماری تمام چھوٹی بڑی حق تلفیاں کرنے والوں کو اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خاطر مُعاف کیا ۔
قرضخواہوں سے مدنی التجا
جس کا مجھ پر قرض آتا ہو یا میں نے کوئی چیز عارِیتاًلی ہو اورواپس نہ