Brailvi Books

عَفْو ودَرْگُزَر کی فضیلت مع ایک اَہَمّ مَدَنی وَصیَّت
23 - 32
 دیکر ہم مُعافی مانگتے ہیں جس میں ہمارے مکّی مَدَنی آقامیٹھے میٹھے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا ہے:’’ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے معذرت کرے اور وہ (بِلا اجازت شرعی) اس کا عذر قبول نہ کرے تو اُسے حوضِ کوثر پر حاضِرہونا نصیب نہ ہو گا۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُالْاَوْسَط ج۴ص۳۷۶حدیث۶۲۹۵) یاد رکھئے ! اِس طرح کی بات کرنا ہر گز مناسِب نہیں کہ الیاس کو ہمارے پاس خود آنا چاہئے اگر خود نہیں آسکتا تو نگرانِ شوریٰ یا کسی رکنِ شوریٰ ہی کو ہمارے پاس یاہمارے فُلاں ’’ بڑے ‘‘ کے پاس بھیج دے۔اِس طرح کی باتیں کرنے والے کے بارے میں یہ وَسوسے آسکتے ہیں کہ یہ صُلح کرنانہیں چاہتے اِس لئے ٹالَم ٹَول سے کام لے رہے ہیں، جب ہم نے تحریر کی صورت میں پہل کر ہی دی ہے تو مُخلِصین کے لئے رُکاوٹ کس چیز کی ہے!   ہر ناراض اسلامی بھائی کوچاہئے کہ رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آگے بڑھے اور گلے لگ جائے ۔ اگر آ کر ملنا نہیں چاہتا تو کسی بھی رُکنِ شوریٰ سے کم از کم فون ہی پر رابِطہ کر لے۔