وتوقیرکریں، اسے دیکھ کر اُن کے چہرے کھِل اُٹھیں اور وہ اس کی تعریف و توصیف کریں تو پھر بھی ان کے پاس کثرت سے نہ آئے کہ حقیقت میں کم لوگ ہی اسے چاہتے ہیں ۔ اگر وہ اُن کے پاس کثرت سے جائے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے ان کے سپردکردے گا پھر وہ ہلاک ہوجائے گا۔ اس بات کی حرص و لالچ نہ کرے کہ وہ اس کی غیرموجودگی میں بھی ا س کے ساتھ ایساہی گمان رکھیں جیسا اس کی موجودگی میں رکھتے ہیں کیونکہ یہ چیز ہمیشہ نہیں پائی جاتی، لوگوں کے پاس موجود چیز کوحاصل کرنے میں حرص ولالچ نہ کرے کہ اس طرح وہ ان کے سامنے ذلیل ہو جائے گا اور اپنا دین ضائع کربیٹھے گا۔ اور اُن پربڑائی نہ چاہے۔جب ان میں سے کسی سے اپنی حاجت کاسوال کرے اور وہ اسے پورا کر دے تو وہ اس کا ایسا بھائی ہے جس سے فائدہ حاصل کیاجاتاہے اوراگر اُس نے اِس کی حاجت پوری نہ کی تو اُس کی مذمت نہ کرے کہ اس طرح اُس کے دل میں دشمنی پیدا ہو جائے گی، لوگوں میں سے کسی کو نصیحت نہ کرے، البتہ ! جب کسی میں قبولیت کے آثاردیکھے تو نصیحت کرے،ورنہ وہ اس سے عداوت رکھے گااوراس کی بات نہیں مانے گا۔