Brailvi Books

آدابِ دین
33 - 60
عیدکے آداب
    (عیدکے آداب یہ ہیں)عیدکی رات عبادت میں گزارے ،عیدکے دن صبح سویرے غسل کرے،بدن کی پاکیزگی کاخوب اہتمام کرے ،خوشبولگائے، تکبیرات کی پاپندی کرے ، ذکر الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی کثرت کرے ،عاجزی و انکساری کی عادت بنائے، تکبیرات کی زیادتی کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پاکی وحمد بھی بیان کرے، نمازکے بعدخطبۂ عیدسننے کے لئے خاموشی اختیارکرے، اگر عید الفطر ہو تو کچھ کھاکرنمازِعیدکے جائے،ایک راستے سے جائے اوردوسرے سے واپس آئے،اس خوف سے واپس آئے کہ نہ جانے میری نمازقبول بھی ہوئی ہے یا نہیں۔
نمازِخسوف کے آداب (۱)
    (نمازِخسوف اداکرتے وقت)جزع وفزع کا اظہارکیاجائے، گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کی جائے اور سستی نہ کی جائے، نماز کے لئے جلدی کی جائے اور قیام لمبا کیاجائے،دل میں خوف الٰہی عَزَّوَجَلَّ پیداکیاجائے۔
1۔۔۔۔۔۔صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی''بہارِشریعت''میں نقل فرماتے ہیں: ''سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اورچاندگہن کی مستحب۔سورج گہن کی نمازجماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہابھی ہوسکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے توخطبہ کے سواتمام شرائط جمعہ اس کے لئے شرط ہیں، وہی شخص اس کی جماعت قائم کرسکتاہے جوجمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہوتوتنہاتنہاپڑھیں،گھرمیں یامسجدمیں۔'' 

(بہارشریعت،حصہ چہارُم،ج۱،ص۷۸۷،مکتبۃ المدینۃ)
Flag Counter