ظہور آدم عليہ السلام کے گندم کھانے کے صدقے سے ہے۔ ہماری اطاعتوں سے ان کی خطائيں افضل ہيں ۔خيا ل رہے کہ يہاں خيا نت سے مراد غلطی ،لغزش، خطا ہے۔ نہ وہ جو گناہِ کبيرہ ہے، جيسے انبيا ء کرام عليہم السلام کی خطا کو قرآنِ مجيد ميں ظلم فرمايا گيا ۔
(۳) اس سے ايک مسئلہ يہ معلوم ہوا کہ رب عزوجل نے صحابہ کرام عليہم الرضوان کی گزشتہ غلطی کو معاف فرما ديا کوئی کفارہ وغيرہ لازم نہ فرمايا ، يہ ان کی خصوصيت ہے ۔ دوسرا يہ کہ اب جو کوئی ان بزرگوں کی اس لغزش کو برائی سے يا د کرے وہ سخت مجرم ہے،رب عزوجل معافی کا اعلان کر چکا تو تم بگڑنے والے کون۔(تفسير نورالعرفان)