نئے راستے کا صِرف گمانِ غالب ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختار ج ۳ ص ۱۸۳)
{5}کئی مزاراتِ اولیاء پر زائرین کی سہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مسمار کر کے (یعنی توڑ پھوڑ کر) فرش بنادیا گیا ہے، ایسے فرش پر لیٹنا، چلنا ، کھڑا ہونا ، تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے، دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے ۔
{6} زیارتِ قبر میِّت کے مُوَاجَہَہ میں (یعنی چہرے کے سامنے) کھڑے ہو کر ہو اور اس ( یعنی قبر والے) کی پائنتی ( پا۔ اِن۔ تِی یعنی قدموں ) کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ص۵۳۲)
{7}قبرستان میں ا ِس طرح کھڑے ہوں کہ قبلے کی طرف پیٹھ اورقبر والوں کے چِہروں کی طرف منہ ہو اس کے بعد کہئے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ۔ ترجمہ: اےقَبْر والو! تم پر سلام ہو، اللہ عَزَّ وَجَلّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔ (فتاوٰی عا لمگیریج ۵ ص ۳۵۰)
{8}جو قبرستان میں داخِل ہو کر یہ کہے اَللّٰہُمَّ رَبَّ الاْجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ الَّتِیْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ بِکَ مُؤْمِنَۃٌ اَدْخِلْ عَلَیْہَا رَوْحًا مِّنْ عِنْدِکَ وَسَلاَمًا مِّنِّیْ۔ ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! (اے)