Brailvi Books

آقا كامہینا
30 - 34
	نئے راستے کا صِرف گمانِ غالب ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔     (دُرِّمُختار ج ۳ ص ۱۸۳) 
{5}کئی مزاراتِ اولیاء پر زائرین کی سہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مسمار کر کے (یعنی توڑ پھوڑ کر) فرش بنادیا گیا ہے، ایسے فرش پر لیٹنا،  چلنا ،  کھڑا ہونا ،  تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے، دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے ۔   
{6} زیارتِ قبر میِّت کے مُوَاجَہَہ میں  (یعنی چہرے کے سامنے)   کھڑے ہو کر ہو اور اس ( یعنی  قبر والے)  کی پائنتی ( پا۔   اِن۔   تِی یعنی قدموں )  کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو،  سرہانے سے نہ آئے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔    (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ص۵۳۲) 
 {7}قبرستان میں ا ِس طرح کھڑے ہوں کہ قبلے کی طرف پیٹھ اورقبر والوں کے چِہروں کی طرف منہ ہو اس کے بعد کہئے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ۔   ترجمہ: اےقَبْر والو!    تم پر سلام ہو، اللہ عَزَّ وَجَلّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے،  تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔    (فتاوٰی عا لمگیریج ۵ ص ۳۵۰) 
{8}جو قبرستان میں داخِل ہو کر یہ کہے اَللّٰہُمَّ رَبَّ الاْجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ الَّتِیْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ بِکَ مُؤْمِنَۃٌ اَدْخِلْ عَلَیْہَا رَوْحًا مِّنْ عِنْدِکَ وَسَلاَمًا مِّنِّیْ۔    ترجمہ:  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!    (اے)