بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے، اللہ تَعَالٰی اُس فوت شدہ بندے کی قَبْر میں نور پیدا کرے گا اور اِس (ثوا ب پہنچانے والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۵ص۳۵۰)
{3}مزارشریف یا قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فضول باتوں میں مشغول نہ ہو۔ (اَیضاً)
{4}قبرستان میں اُس عام راستے سے جائے، جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں ، جوراستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔ ’’رَدُّالْمُحتار‘‘ میں ہے: (قبرستان میں قبریں پاٹ کر) جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے ۔ (رَدُّالْمُحتار ج ۱ ص ۶۱۲ ) بلکہ