قابلِ فخر کام تھا ۔ میری گناہوں بھری خزاں رسیدہ شام کے اِختتام اور نیکیوں بھری صبح بہاراں کے آغازکے اسباب یوں بنے کہ ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کی بَرَکت سے مجھے ’’ہِنجر وال‘‘ میں شبِ براءَ ت کے سلسلے میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی۔ مبلِّغ دعوتِ اسلامی کابیان اس قَدَرپرسوزاوررِقت انگیزتھاکہ میں اپنے گناہوں پر ندامت سے پانی پانی ہو گیا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کے دھارے بہ نکلے۔ اجتماع کے اختتام پرہمارے عَلاقے کے ’’مدنی قافِلہ ذمے دار‘‘ اسلامی بھائی نے مجھ سے ملاقات فرمائی اور مجھے تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی ترغیب دی، چونکہ دل چوٹ کھاچکاتھا لہٰذا میں ان کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں مَدَنی قافلے کا مسافِربن گیا۔ مَدَنی قافلے کے اندر عاشقانِ رسول کی شفقتوں بھری صحبت میں رہ کر بے شمار سنتیں سیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیں نے اپنے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کرلی۔ جب رَمَضانُ المبارَک کی تشریف آوَری ہوئی تومیں نے عاشقانِ رسول کے ساتھ آخری عشرے کے اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔ اُس اعتکاف میں ستائیسویں شب ایک خوش نصیب اسلامی بھائی کو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سرکارِ دو عالم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت نصیب ہوئی، اس بات نے میرے دل میں دعوتِ اسلامی کیمَحَبَّت کومزید 12 چاند لگا دیئے اور میں مکمل طور پردعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔