اورقرابت داروں کو روکو، جہاں آوارہ بچے یہ کھیل کھیل رہے ہوں وہاں تماشا دیکھنے کیلئے بھی نہ جاؤ۔ (اَیضاً ) (شبِ براءَت کی مُرَوَّجہ) آتش بازی کا چھوڑنا بلاشک اِسراف اور فضول خرچی ہے لہٰذا اِس کا ناجائز وحرام ہونا اور اسی طرح آتش بازی کابنانا اور بیچنا خریدنا سب شرعاًممنوع ہیں۔ (فتاوی اجملیہ ج۴ص۵۲) میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : آتشبازی جس طرح شادیوں اور شبِ براء َت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال ( تض۔ یی ۔ عِ۔ مال یعنی مال کا ضائِع کرنا) ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۲۷۹)
آتش بازی کی جائز صورَتیں
شبِ براءَت میں جو آتش بازی چھوڑی جاتی ہے اُس کا مقصد کھیل کود اور تفریح ہوتا ہے لہٰذا یہ گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ البتّہ اِس کی بعض جائز صورَتیں بھی ہیں جیسا کہ بارگاہ ِ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں سُوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ آتَشبازی بنانا اور چھوڑنا حرام ہے یا نہیں؟ الجواب: ممنوع وگناہ ہے مگر جو صورتِ خاصّہ لَہْو ولَعِب وتَبْذِیرواِسراف سے خالی ہو (یعنی اُن مخصوص صورتوں میں جائز ہے جو کھیل کود اورفضول خرچی سے خالی ہو) ، جیسے اعلانِ ہِلال (یعنی چاند نظر آنے کا اعلان) یا جنگل میں یا وقتِ حاجت شہر میں بھی د فعِ جانورانِ موذی (یعنی ایذا دینے والے جانوروں کو بھگانے کیلئے) یاکھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں (اور پرندوں ) کے بھگانے اُڑانے کو