ایک وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ''چالیس ''میں سے ایک کواور اگر ان ''چالیس'' حضرات میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ''تین سو'' میں سے ایک کو اور اگر ان ''تین سو ''میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ عام لوگوں میں سے کسی کو مقرَّر فرماتا ہے ۔ان کے ذَرِیعے (وسیلے)سے زندَگی اور موت ملتی ،بارِش برستی،کھیتی اُگتی اور بلائیں دُور ہوتی ہیں حضرتِ سیِّدُنا ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ا ِستِفسار کیا گیا،''ان کے ذَرِیعے کیسے زندَگی اور موت ملتی ہے؟''فرمایا،''وہ اللہ تعالیٰ سے اُمّت کی کثرت کا سُوال کرتے ہیں تواُمّت کثیر ہو جاتی ہے اور ظالِموں کے لیے بددُعا کرتے ہیں تو اُن کی طاقت توڑ دی جاتی ہے ، وہ دعا کرتے ہیں تو بارش برسائی جاتی ، زمین لوگوں کے لیے کھیتی اُگاتی ہے ، لوگوں سے مختلف قسم کی بلائیں ٹال دی جاتی ہیں۔